ابنا: پاکستانی ذرائع کے مطابق کراچی میں اسوقت حالات بدستور کشیدہ ہیں تفصیلات کے مطابق کل عباس ٹاون میں ہونے والے بم دھماکوں کے شہداء کی نماز جنازہ انچولی سوسائیٹی سے متصل سپر ہائی وے پر ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کا مجمع تھا ہر آنکھ اشکبار تھی اور شھداء کے عزیز و اقارب اپنے پیاروں کے غم میں بے حال تھے۔
سوگ وار اور نوحہ کناں ماحول میں جب شھداء کے جنازے اٹھائے گئے تو فضا لبیک یا حسین کی صدائوں سے گونج اٹھی۔ پر امن شرکاء جنازہ جب سپر ہائی وے، سہراب گوٹھ کے نزدیک پہنچے تو چند شر پسند عناصر نے ہنگامہ آرائی کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ان پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور نہتے عوام کے جن میں شیعہ اور سنی دونوں مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد تھے اپنی جان بچانے کی کوششوں میں لگ گئے۔
لیکن حالات اس وقت زیادہ کشیدہ ہوئے جب جنازے سے واپسی پر شرکاء کے جلوس پر چار طرف سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی فائرنگ اتنی شدید تھی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان بھی اپنی جانیں بچاتے نظر آئے ۔ اس اندھا دھن فائرنگ میں ۲۴ افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
اسی طرح مختلف شیعہ علاقوں کے اطراف میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
آخری اطلاعات آنے تک سوگواروں کی ایک بڑی تعداد کراچی کے مرکزی علاقے نمایش چورنگی پر جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اس ظلم اور بربریت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کراچی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے مختلف کاروائیوں میں دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جو مختلف کاروائیوں میں ملوث ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین آج رات پاکستان بھر میں شیعہ نسل کشی کے خلاف اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
سوگ وار اور نوحہ کناں ماحول میں جب شھداء کے جنازے اٹھائے گئے تو فضا لبیک یا حسین کی صدائوں سے گونج اٹھی۔ پر امن شرکاء جنازہ جب سپر ہائی وے، سہراب گوٹھ کے نزدیک پہنچے تو چند شر پسند عناصر نے ہنگامہ آرائی کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ان پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور نہتے عوام کے جن میں شیعہ اور سنی دونوں مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد تھے اپنی جان بچانے کی کوششوں میں لگ گئے۔
لیکن حالات اس وقت زیادہ کشیدہ ہوئے جب جنازے سے واپسی پر شرکاء کے جلوس پر چار طرف سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی فائرنگ اتنی شدید تھی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان بھی اپنی جانیں بچاتے نظر آئے ۔ اس اندھا دھن فائرنگ میں ۲۴ افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
اسی طرح مختلف شیعہ علاقوں کے اطراف میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
آخری اطلاعات آنے تک سوگواروں کی ایک بڑی تعداد کراچی کے مرکزی علاقے نمایش چورنگی پر جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اس ظلم اور بربریت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
دوسری جانب کراچی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ اس نے مختلف کاروائیوں میں دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جو مختلف کاروائیوں میں ملوث ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین آج رات پاکستان بھر میں شیعہ نسل کشی کے خلاف اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔